An Unbiased View of بلوک چین

اس مضمون میں چینی متن شامل ہیں۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو، چینی حروف کے بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔

کرپٹو کی مقبولیت کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اسے دھوکہ بازی کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے۔ آۓ دن کرپٹو کے جعلی پراجیکٹس سے لٹنے والوں کی کہانیاں خبروں کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

ظاہری ہیئت عطیہ دیجیے کھاتہ بنائیں داخل ہوں ذاتی آلات عطیہ دیجیے کھاتہ بنائیں داخل ہوں

"Despite the fact that bitcoin transactions are designed to be anonymous, each one is connected to a coded tackle which can be noticed by anybody."[13]

ہمارے معاشرے میں ایک عمومی مزاج رائج ہے کہ جب کبھی بھی ترقی کرتی ہوئی دنیاکے ساتھ کوئی نئی چیز وجود میں آتی ہے تو عوام الناس اس کا شرعی حکم جاننے کے لیے علمائے کرام کی طرف رجوع کرتی ہے جو کہ بلا شبہ ایک قابل تعریف امر ہے لیکن ساتھ ایک افسوس ناک امر یہ ہوتا ہے کہ اگر علما اس پر محققین کی آراء کی روشنی میں حرمت کا فتوی دیتے ہیں تو علماء دقیانوس اور ترقی سے دور شخصیات جیسے القابات سے نوازے جاتے ہیں اور اگر علماء محققین کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حلال ہونے کا فتوی دیتے ہیں تو لوگ اس میں سرمایہ کاری بغیر سوچے سمجھے شروع کر دیتے ہیں اور اگر اس میں نقصان ہو جائے تو علماء کو ہدف تنقید بنایا جاتایہ رویہ قطعا غیر مناسب رویہ ہے حالانکہ نبی ﷺ نے بیان فرمایا : إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اخطا فلہ أَجْرٍ – یعنی : جب فیصلہ کرنے والا کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دو ثواب لتے ہیں اور جب کسی فیصلے میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے ایک ثواب ( اپنی محنت کا ) ملتا ہے۔ غور فرمائیں میکا کوائن کہ نبی ﷺ نے دونوں صورتوں میں علماء کے لیے ثواب بلوک چین اور نیکی کی بشارت دی ہے نہ کہ یہ فرمایا کہ اگر وہ غلط ہوں تو ان کو ہدف تنقید بنایا جائے ۔

میں نے اپنے تمام پاؤنڈز کو بٹ کوائن میں بدل کر کرپٹو کرنسی کا سفر شروع کیا۔ میں نے ایسا کرنے میں کافی سکون محسوس کیا کیونکہ بٹ کوائن بالکل عام پیسوں کی طرح ہے۔ بینک اور حکومت کے کنٹرول کی بجائے اس کرنسی کو کمپیوٹرز اور کے ایک غیر مرکزی نیٹ ورک کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جسے ’بلاک چین‘ کہتے ہیں۔

اگرچہ کرپٹو کرنسیوں کو غیر مرکزی (ڈی سینٹرالائزڈ) کرنسی بتایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ 'فی ایٹ' کرنسی سے بھی زیادہ سینٹرالائزڈ ہے- شخصی رازداری آزادی کا سب سے اہم ستون ہوتا ہے۔ ہر مطلق العنان پرائیویسی کو ختم کرتا ہے۔

بلاک چین پر لین دین۔ یہ ٹھیک ہے۔ لوگ کوڈ کی ایک لائن کے لیے لاکھوں ڈالر ادا کرتے ہیں، جس پر یہ درج ہوتا ہے کہ ’آپ نے لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔‘ یہ سب صرف دکھاوے کے لیے ہے! اگر یہ فن نہیں ہے تو مجھے نہیں معلوم ہے کہ یہ کیا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے لیے آپ کو کافی تردد کرنا پڑتا تھا۔ آج کل کمپیوٹر پر اردو لکھنا بہت آسان ہو چکا ہے۔ میں آپ کو ایک ایسا ہی آسان طریقہ بتانے جا رہا ہوں

چونکہ اس ٹیکنالوجی کا زیادہ تر استعمال رقوم کی ترسیل کے لیے ہوتا ہے تو ہم طریقہ کار کی وضاحت کے لیے رقم کی ٹرانزیکشن کا طریقہ ہی بیان کریں گے۔

بٹ کوائن ایک کرپٹو کرنسی ہے جسے آپ ڈیجیٹل کرنسی بھی کہہ سکتے ہیں یہ روایتی طور پر دْنیا بھر میں استعمال ہونے والی کرنسیوں ڈالر، پاونڈ یا روپے وغیرہ سے مختلف اس لیے ہے کیونکہ اسے کوئی مستند مالی ادارہ کنٹرول نہیں کرتا۔

بھوٹان کے بادشاہ ، جیگے کھسار نامگیل وانگچک نے طویل عرصے سے ملک کی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنے کی وکالت کی ہے۔

ہم نے بی ٹی سی پر توجہ مرکوز کی ہے جس میں عملی آرٹیکل کنیکٹ کے نیچے ہے

عام تصور کے برعکس کرپٹو کرنسی حکومت کے ضابطوں کے ماتحت ہوتی ہے۔ آپ جو جی چاہے وہ اس سے نہیں کر سکتے۔ یہ مکمل گمنامی مہیا نہیں کرتی۔ اور غالباً اب اس غبارے سے ہوا نکلنے ہی والی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *